Wednesday, May 6, 2020

سعودی عربیہ کی خبریں-

0 comments

سعودی عرب میں کورونا مریضوں کے علاج کے لیے کوئی دوا موثر ثابت نہیں ہورہی-

سعودی عرب میں کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لیے کوئی دوا بھی مؤثر ثابت نہیں ہو ئی، جس کے بعد وزارت صحت کی جانب سے" بلڈ پلازمہ "سے مریضوں کا علاج کرنے پر سوچ بچار شروع کر دی گئی ہے۔ اس بات کا انکشاف وزارت صحت کے ترجمان "ڈاکٹر محمد العبد العالی" نے یومیہ بریفنگ کے دوران کیا۔ سعودی اخبار الوطن کے مطابق العبد العالی نے بتایا کہ سعودی عرب میں کورونا کے جتنے بھی مریض صحت یاب ہوئے ہیں، وہ کسی ایک دوا کی وجہ سے نہیں ہوئے۔ ملک میں کورونا مریضوں کے علاج کے لیے کوئی بھی دوا اب تک مؤثر ثابت نہیں ہو ئی۔ اینٹی بائیوٹک کورونا کی بیماری کا علاج نہیں- یہ صرف ان مریضوں کو دی جا رہی ہے جو کورونا کا شکار ہونے کے بعد دیگر امراض میں بھی مبتلا ہو گئے ہیں۔


اس وقت مریضوں کو علاج کے لیے زیادہ سے زیادہ دوائیاں دی جا رہی ہیں۔ کورونا کے مریضوں کودی جانے والی دوائیاں صرف وائرس کو قابو کرنے کے لیے منتخب کی گئی ہیں۔ دواؤں سے بہترین نتائج حاصل نہ ہونے کے وجہ سےاب کورونا مریضوں کے لیے بلڈ پلازمہ سے علاج کے لیے کلینیکل تجربات شروع کر دیئے گئے ہیں۔ اُمید ہے کہ اگلے چند ہفتوں میں ہمیں اس حوالے سے خوش خبری والے نتائج مِل جائیں گے۔ دُنیا بھر میں بھی فی الحال بلڈ پلازمہ کو تجرباتی طور پر آزمایا جا رہا ہے۔ ابھی اس کے مؤثر اور مفید ہونے کے بارے میں طبی تحقیق جاری ہے۔


ڈاکٹر العبد العالی نے مزید کہا ہےکہ دُنیا بھر میں کورونا کے علاج کے لیے ویکسین بنانے پر کام ہو رہا ہے۔ جب بھی اس بیماری کی ویکسین تیار ہو گئی تو سعودی حکومت اسے فوری طور پر حاصل کرنے والے ممالک میں  سے ہو گا۔ سعودی مملکت کے کئی سرکاری ریسرچ سینٹرز میں بھی کورونا کی ویکسین تیار کرنے کے لیے طبی تحقیق جاری ہے۔ کورونا وائرس کے علاج کے سلسلے میں بلڈ پلازمہ پر ایڈونسڈ کلینکل ٹرائلزکے لیے سات ہسپتالوں میں موجود مریضوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔